Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts

Wednesday, January 24, 2018

Urdu Poetry



                                         سلطان محمد خان

"دُشمن جان"


وہ ایک لڑکی حسین لڑکی
ادا میں جس کے چھپے ہوئے ہیں
تباہیوں کے نغمے
دلوں کو ویراں کرنے کے نغمے
آنکھوں میں شفق کی سُرخی
ڈوبتے سورج کا ایک منظر
اُس کا چہرہ

چاندنی کے کرنوں سے بنا ہوا ہے
زلفوں میں گویا چاند نکلا ہوا
چاند کے پیچھے رات ہوئی ہو
وہ شوخ چنچل
وہ میرا محبوب وہ میرا دشمن
وہ ایک لڑکی حسین لڑکی



-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------




                                         سلطان محمد خان



"اب تو میرے قریب آجاؤ"




کیا مشکل گھڑی ہے
وہ سامنے کھڑی ہے
ہنستی بھی ہے مسکراتی بھی ہے
میرے قریب وہ نہیں آتی
بات وہ نہیں کرتی
یونہی  دن گزرتے جاتے ہیں
یونہی لمحے کھوئے جاتے ہیں
پھر یہ دن نہیں ہونگے
پھر تو پچھتائے گی
اب تو میرے قریب آجاؤ
اب تو میرے قریب آجاؤ
 
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 
                                         سلطان محمد خان

"آج وہ میری قریب آئی تھی"


آج وہ میرے قریب آئی تھی
آج وہ میرے قریب بیٹھی تھی
آج میں نے بھی ستایا اُس کو
آج ہر بدلہ چُکا دیا اُس کا
آج یہ یقین دلاگئی مجھ کو
کہ آئندہ نہ ستائے گی مجھ کو
مگر یقین کون کرے
آج بھی میرے سامنے بیٹھی ہے
آج بھی مسکرا رہی ہے وہ
وہی پُرانے تیور دکھا رہی ہے وہ
اور آپ ہی آپ مسکرا رہی ہے وہ



--------------------------------------------------------------------------------------------------------

"سگِ لیلیٰ" "لیلیٰ کا کتا"


میرے عشق کی انتہا دیکھئے آجکل
خواب میرے ہیں سگِ لیلیٰکےنام آجکل
اپنی بزمیں یار مجھے چھوڑتا نہیں
مشکل سا بن گئی ہے زندگی آجکل
سگ پال لیا ہے آخر لیلیٰ کے باپ نے
ممکن نہیں رہا اُن کی گلی میں جانا آجکل
مجنون بن کر اُن کی گلی میں بھی گیا
انجکشنوں کا کورس پورا کر رہا ہوں آجکل
سگِ لیلیٰ کے خم کا کل کا کیا پوچھنا
لیلیٰ کا ہراسیراس کا قائل ہےآجکل
سگِ لیلیٰ کو تو اٹھائے  اے اللہ
بس یہی دُعا کر رہا ہے سلطان آجکل


-----------------------------------------------------------------------

                                         سلطان محمد خان
"حسینہ"


وہ اک دھان پان سی لڑکی تھی
وہ میری گلی میں رہتی تھی
میں جب بھی سامنے آتا تھا
وہ چپکے سے شرماتی تھی
وہ چپکے سے شرماتی تھی اور پھر گھبراتی تھی
وہ ناز وہ اداسے چلتی تھی
چلتی تھی، مڑ جاتی تھی
اور ہولے سے شرماتی تھی
ہولے سے شرماتی تھی اور پھر گھبراتی تھی
نازک تھی حسین تھی
اک مہ جبین تھی
رخسار میں اک گرمی تھی
ہونٹ نہیں کلیاں تھی
حُورتھی کہ پری تھی
میری گلی میں رہتی تھی
اور وہ اک گل لالہ تھی


---------------------------------------------------                           سلطان محمد خان

"یہ جو مسکراتی ہو تم"


یہ جو مسکراتی ہو تم
دل سینے سے چھین کر لے جاتی ہو تم
ہمیں تڑپتا چھوڑ کر
بے حال بناتی ہو تم
جو کبھی ہوئی تم مہربان
تیری ستم کا ہوا انتہا
قیامت دل پہ اک گزرگئی


---------------------------------------------------------------------------------------------------
سلطان محمد خان
"وہ کومل سی  اک کلی ہے"


وہ کومل سی اک کلی ہے
میں کانٹا اُس کے شاخ کا ہوں
وہ جان بھی ہے دلبر بھی ہے
میں ایک کھٹکتا کانٹا ہوں
کانٹا بھی پرُ غرور ہوں کہ
اغیار کی آنکھوں میں چُھبتا ہوں
وہ کس اور کے سینے یہ سجتی ہے
میں دیکھتا ہی رہ جاتاہوں



-----------------------------------------------------------------------------------------------

                                      

                                         سلطان محمد خان

زندگی کے راستوں پر



زندگی کے اونچے نیچے راستوں پر
زندگی کے اِن پُر خار راستوں پر
زندگی یہ زندگی، زندگی سنوار جائے
تو گر مجھے مل جائے زندگی کے راستوں پر
زندگی کے وہ لمحے جن میں تم نہیں تھے
ڈھونڈا ہے تجھے زندگی کے راستوں پر
تو جو مجھے مل جائے توجومیرا ہو جائے
زندگی سنوار جائے اِن پر خار راستوں پر
زندگی بدل جائے زندگی سنبھل جائے
میں سلطان بن جاؤں زندگی کے راستوں

----------------------------------------------------------------------------------------






  -----------------------------------------------------------------------------------                                                                                                          سلطان محمد خان  
 
             دولت       

تمھیں پانا بہت آسان ہے اس زمانے میں
ساتھ رکھنا نہیں  ممکن لیکن اس زمانے میں
رکھنے والے لیکن سنبھال کر رکھ بھی لیتے ہیں
لیکن اپنے ملک میں رکھتے نہیں غیروں کے ملکوں میں
یہ ہے نہیں عوامی یہ خواصوں کے لیے ہے
یہ اس ملک کے بے ضمیر سیاستدانوں کے لیے ہے
اس کے واسطے یہ قوم کو تقسیم کرتے ہیں
اسی کے واسطے یہ قوم میں قومیں بناتے ہیں
غلامی لے لیے یہ لوگ ٹکڑے چاہتے ہیں
اس کے واسطے یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں

---------------------------------------------------------------------------------------------------
سلطان محمد خان

          زندگی





زندگی گزرنےکا کوئی معیار بنایا ہوتا
لوگوں سےملنےکاکوئیاصول بنایا ہوتا
زندگی کو کیوں اتنا سستا بنا لیا تم نے
کچھ جینے کا سلیقہ تم نے اپنا لیا ہوتا
محفل میں ہرشخص کی نگاں ہے تم پہ کیوں
انگلی اُٹھانے کا موقع نہ کسی غیر کو دیا ہوتا
 



------------------------------------------------------------------------------------------------------


                                         سلطان محمد خان  
   تصویر

اک تیری تصویر دیکھوں
تصویر میں کیا کیا دیکھوں
تیری سُلگتے ہوئے رخسار کو دیکھوں
نازک سے سُرخی مائل لب کو  دیکھوں
سُرخی مائل گردن پر اِک تل دیکھوں
سینکڑوں دلوں کا قاتل دیکھوں
 روشنی سے بنی تیری مرمریں باہیں دیکھوں  
تیری پلکوں کے گھنی چلمن میں
نشیلی حسین آنکھیں دیکھوں
 کالی زلفوں میں تیرے چاند نکلتا دیکھوں
چاند کے کرنوں سے بنا تیرا سراپا دیکھوں
اے میرے دلبر اے میرے محبوب
تیری تصویر میں کیا کیا دیکھوں
اس سردیوں کے موسم میں
اس افسردیوں کے موسم میں
نازک سا خوبصورت سا تیرا سراپا
دُشمن جان، قاتل جان ہے تیرا سراپا
 تیری تصویر میں  میں  کیا دیکھوں
تیری نشیب وفراز میں کھو کر
اپنے د کھوں کا مُداوں دیکھوں
اے میری جان تیری تصورمیں کیا کیا دیکھوں



 -------------------------------------------------------------------------------------
 
 
             دولت       

تمھیں پانا بہت آسان ہے اس زمانے میں
ساتھ رکھنا نہیں  ممکن لیکن اس زمانے میں
رکھنے والے لیکن سنبھال کر رکھ بھی لیتے ہیں
لیکن اپنے ملک میں رکھتے نہیں غیروں کے ملکوں میں
یہ ہے نہیں عوامی یہ خواصوں کے لیے ہے
یہ اس ملک کے بے ضمیر سیاستدانوں کے لیے ہے
اس کے واسطے یہ قوم کو تقسیم کرتے ہیں
اسی کے واسطے یہ قوم میں قومیں بناتے ہیں
غلامی لے لیے یہ لوگ ٹکڑے چاہتے ہیں
اس کے واسطے یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں
 

---------------------------------------------------------------------------------



سلطان محمد خان




زندگی گزارنےکا کوئی معیار بنایا ہوتا
لوگوں سےملنےکاکوئی اصول بنایا ہوتا
زندگی کو کیوں اتنا سستا بنا لیا تم نے
کچھ جینے کا سلیقہ تم نے اپنا لیا ہوتا
محفل میں ہرشخص کی نگاں ہے تم پہ کیوں
انگلی اُٹھانے کا موقع نہ کسی غیر کو دیا ہوتا




حُسن کی یہ بجلیاں گرتی ہیں آج کہاں
بن ٹھن کےبیوٹی پارلرسےآگئےہیںوہ

---------------------------------------------------

زندگی پہ کبھی جب بات چلے گی
ذکر میرا بھی ہو گا زندگی کےساتھ

---------------------------------------------------

اُس کی مزاج کی  برہمی سے ڈرتا ہوں
اس لیے تو زندگی میں احتیتاط کرتا ہوں


---------------------------------------------------
اے بے اعتبار انسان ، تو اعتبار کرے
میں بےاعتبار نہیں ہوں تو اعتبار کرے

 ------------------------------------------------------